Wednesday, July 22, 2020

ماں جی نے ہمسائیوں کے دروازے پر دستک دی

ماں جی نے ہمسائیوں کے دروازے پر دستک دی 




ماں جی نے ہمسائیوں کے دروازے پر دستک دی اور ان سے نمک مانگ لیا ، بیٹا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہنے لگا امی کل ہی تو میں نمک بازار سے لے آیا تھا پھر یہ ہمسائیوں کے دروازے پر جانے کی کیا ضرورت تھی؟
ماں جی کہنے لگی بیٹا ہمارے ہمسائے غریب ہیں وہ وقتا فوقتاً  ہم سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ ہمارے کچن میں نمک موجود ہے لیکن میں نے ان سے 
نمک اس لئے مانگ لی تاکہ وہ ہم سے کچھ مانگتے ہوئے  ہچکچاہٹ اور شرمندگی محسوس نہ کریں بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمسائیوں سے حسب ضرورت چیزیں مانگی جا سکتی ہیں، یہ ہمسائیوں کے حقوق میں سے ہے۔

خوبصورت معاشرے ایسی ماؤں  سے تشکیل پاتے ہیں۔

۔ماں تم ہی  تو ھو ۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment

اسکے ماں باپ نے بڑے لاڈ و پیار

اسکے ماں باپ نے بڑے لاڈ و پیار اسکے ماں باپ نے بڑے لاڈ و پیار سے پرورش کی ، جوان ہوئی تو والدین کی رضا مندی کے بغیر کالج کی بس کے ڈرائیور سے...